اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا حکومت کے عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر دھمکیوں کو افسوسناک اور قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو پہلے ہی غیر معمولی مراعات دی جا رہی ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر ان سے ملاقات کے لیے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی پر ملک کی معیشت تباہ کرنے اور سفارتی تنہائی کا الزام لگاتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسے دھرنے صوبے کی ترقی کو متاثر کریں گے۔ دوسری جانب، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ملاقات نہ ہونے پر پارلیمنٹ کی کارروائی روکنے اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے احتجاج کی دھمکی دی ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت کی دھمکیاں اور وفاقی ردعمل
وفاقی وزیر عطا تارڑ نے ایک بیان میں سوال اٹھایا کہ اگر خیبر پختونخوا حکومت مسلسل دھرنے دیتی رہی تو صوبے کی عوام کو کون ترقی دے گا؟ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت غیر قانونی مطالبات کر رہی ہے، جیسے جیل مینوئل کی خلاف ورزی، جو کہ قانون کی توہین ہے۔ تارڑ نے مزید کہا کہ عمران خان میگا کرپشن کیس میں سزا یافتہ ہیں اور ان کی پالیسیوں نے پاکستان کو معاشی اور سفارتی بحران میں دھکیل دیا۔ "کوئی قیدی کبھی اتنی مراعات نہیں پا سکا جتنی بانی پی ٹی آئی کو ملی ہیں،” انہوں نے واضح کیا۔
سوشل میڈیا پروپیگنڈا اور بیرونی مداخلت کا الزام
عطا تارڑ نے سنگین الزام لگایا کہ بھارت اور افغانستان کی سرزمین سے پاکستان مخالف پروپیگنڈا چل رہا ہے، جس میں عمران خان سے ملاقات کے لیے سوشل میڈیا کو ہتھیار بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ہتھکنڈے قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور پی ٹی آئی کو ملک دشمن بیانیہ چھوڑ کر ریاست کے مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔ حالیہ دنوں میں ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایسے پوسٹس وائرل ہوئے ہیں جو عمران خان کی ملاقات کو سیاسی دباؤ کا ذریعہ بنا رہے ہیں، جو وفاقی حکومت کی تشویش کا باعث بنے ہیں۔
سہیل آفریدی کا احتجاجی اعلان اور سیاسی کشیدگی
دوسری طرف، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ اگر عمران خان سے ملاقات نہ کروائی گئی تو منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر احتجاج کیا جائے گا اور صوبائی اسمبلی کی کارروائی معطل رہے گی۔ یہ اقدام پی ٹی آئی کی جانب سے جاری سیاسی مہم کا حصہ ہے، جو وفاق اور صوبے کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے مطالبات صوبائی وسائل کے غلط استعمال کا سبب بن رہے ہیں، جبکہ دہشت گردی اور معاشی مسائل حل طلب ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سیفٹی اصولوں کی خلاف ورزی پر نیشنل گرڈ کمپنی پر ایک کروڑ روپےجرمانہ
نتیجہ: یہ تنازع پاکستان کی سیاسی استحکام کے لیے چیلنج ہے۔ وفاقی حکومت نے بات چیت کی دعوت دی ہے، مگر پی ٹی آئی کے مطالبات کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ تمام فریقین قومی مفاد کو فوقیت دیں تاکہ صوبائی ترقی متاثر نہ ہو۔ اگر ایسا نہ ہوا تو احتجاجی لہر مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جو معیشت اور امن و امان کو خطرے میں ڈالے گی
