ہفتہ, جون 13, 2026
Homeعالمیآزاد کشمیر میں تحریکِ عدم اعتماد کا طریقہ کار طے پا گیا،...

آزاد کشمیر میں تحریکِ عدم اعتماد کا طریقہ کار طے پا گیا، وزیرِ قانون

آزاد کشمیر کے وزیر قانون میاں عبدالوحید نے اعلان کیا ہے کہ وزیراعظم چوہدری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا طریقہ کار حتمی شکل اختیار کر لیا گیا ہے۔ ایک ہفتے کے اندر یہ تحریک اسمبلی میں پیش کی جائے گی، جبکہ پیپلز پارٹی کی ارکان کی تعداد 27 تک پہنچ گئی ہے، جو عددی برتری کی ضمانت دیتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) تحریک کی حمایت کرے گی، مگر حکومت سازی میں شراکت کی شرائط پر بات چیت جاری ہے۔ اس دوران، اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت اور حالات کا جائزہ لینے کی وجہ سے تاخیر ہوئی، جبکہ پی ٹی آئی کی عدم رجسٹریشن اور فلور کراسنگ ایکٹ کی عدم اطلاقیابی بھی اہم عوامل ہیں۔

تحریک عدم اعتماد کا لائحہ عمل

وزیر قانون میاں عبدالوحید نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بیرسٹر سلطان محمود کی حمایت یافتہ ارکان کی پیپلز پارٹی میں شمولیت سے پارٹی کی طاقت میں اضافہ ہوا ہے۔ اب مسلم لیگ (ن) تحریک عدم اعتماد میں ووٹ دے گی، جس سے پیپلز پارٹی بغیر کسی اتحاد کے حکومت قائم کر سکے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ تین سے چار دنوں میں تحریک جمع کروائی جائے گی اور اس وقت نئے وزیراعظم کا نام بھی اعلان کیا جائے گا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو نئے قائد ایوان کے فیصلے کا اختیار حاصل ہوگا۔

سیاسی حالات اور چیلنجز

آزاد کشمیر میں سیاسی کشمکش عروج پر ہے، جہاں پیپلز پارٹی کو عددی برتری تو مل گئی مگر اتحادیوں کی شرائط نے عمل میں تاخیر کی۔ وزیر قانون نے بتایا کہ اسٹیک ہولڈرز سے طویل مشاورت اور علاقائی حالات کا تجزیہ اس تاخیر کا سبب بنا۔ مزید برآں، پی ٹی آئی دو سال سے رجسٹرڈ نہیں، اس لیے فاروق بلاک کے ارکان پر فلور کراسنگ ایکٹ लागو نہیں ہوتا۔ یہ صورتحال پیپلز پارٹی کے لیے نئی حکومت سازی کا موقع فراہم کر رہی ہے، مگر ن لیگ کی حمایت محدود رہ سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: PIMEC-2025 آج سے شروع، ٹریفک کا نیا پلان جاری

نتیجہ: نئی سیاسی ترتیب کی راہ ہموار

یہ اعلان آزاد کشمیر کی سیاست میں اہم موڑ ہے، جو پیپلز پارٹی کو مرکزی کردار دیتا ہے۔ تاہم، اتحادیوں کی شرائط اور علاقائی استحکام کی ضرورت مستقبل کی راہ ہموار کرنے میں کلیدی ہوگی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی علاقائی سیاست کو متاثر کرے گی، خاص طور پر جہاں جماعتیں عددی کھیل کھیل رہی ہیں۔ عوام کی توقعات کے مطابق مستحکم حکومت کی تشکیل ہی اصل کامیابی ہوگی۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں