پنجاب حکومت کل پانچ نومبر کو راولپنڈی ڈویژن میں حمّت کارڈ پروگرام کے تیسرے مرحلے کا باوقار آغاز کر رہی ہے، جہاں معذور افراد کو موٹرائزڈ ویل چیئرز، تھری ویل موٹر بائیکس، دستی ویل چیئرز اور دیگر معاون آلات تقسیم کیے جائیں گے۔ یہ آلات ان کی روزمرہ نقل و حرکت اور خودمختاری کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں گے، جبکہ نئے حمّت کارڈ جاری کرکے تین ماہانہ دس ہزار پانچ سو روپے کی مالی امداد بھی شروع ہوگی، جو بنیادی اخراجات اور وقار کی حفاظت میں معاون ہوگی۔
معاون آلات کی تقسیم
راولپنڈی، اٹک، چکوال اور جہلم کے منتخب معذور افراد کو طبی رائے اور ذاتی ضروریات کی بنیاد پر معاون آلات فراہم کیے جائیں گے۔ موٹرائزڈ ویل چیئرز اور تھری ویل موٹر بائیکس انہیں آزادانہ سفر کی سہولت دیں گی، جبکہ دستی ویل چیئرز اور سمعی آلات روزمرہ کاموں میں آسانی پیدا کریں گے۔ یہ اقدام صرف علامتی نہیں بلکہ عملی فائدہ مند ہے، جو معذور افراد کی زندگی کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے۔
حمّت کارڈ کی مالی امداد
حمّت کارڈ پنجاب حکومت کا اہم سماجی تحفظی پروگرام ہے، جو معذور افراد کو تین ماہانہ دس ہزار پانچ سو روپے کی امداد دیتا ہے۔ یہ رقم خوراک، ادویات، تعلیم اور ٹرانسپورٹ جیسے بنیادی احتیاجات پوری کرنے میں استعمال ہو سکتی ہے۔ تیسرے مرحلے میں مستحقین کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا، خاص طور پر جسمانی معذوری کی وجہ سے کماؤ نہ کرنے والوں اور خواتین کو ترجیح دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں گزشتہ روز 3400 سے زائد ای چالان، سب سے زیادہ چالان کس خلاف ورزی پر ہوئے؟
حکومت کی سماجی فلاح کی کوششیں
یہ پروگرام معذور افراد کی باوقار زندگی کو یقینی بنانے کی جانب پنجاب حکومت کی سنجیدہ کوششوں کا مظہر ہے۔ راولپنڈی ڈویژن میں ہونے والی تقریب نہ صرف آلات اور کارڈ کی تقسیم کا موقع فراہم کرے گی بلکہ سماجی انصاف کی طرف ایک اہم قدم بھی ہوگی۔ مستقبل میں مزید اضافے سے ہزاروں خاندان مستفید ہوں گے، جو معذوری کی وجہ سے مالی مشکلات کا شکار ہیں۔
