ہفتہ, جون 13, 2026
Homeعالمیاسرائیلی صدر نے ٹرمپ کی نیتن یاہو کو معاف کرنے کی درخواست...

اسرائیلی صدر نے ٹرمپ کی نیتن یاہو کو معاف کرنے کی درخواست مسترد کردی

تل ابیب: اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو بدعنوانی کے مقدمات میں معافی دینے کی درخواست کو مسترد کر دی ہے۔ پانچ سال سے چل رہے ان مقدمات کو ٹرمپ نے سیاسی انتقام قرار دیا تھا، مگر ہرزوگ نے اسرائیل کی خودمختاری اور قانونی نظام کی بالادستی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی بھلائی ہی ان کی اولین ترجیح ہے۔ یہ فیصلہ اسرائیلی سیاست میں نئی کشیدگی کو جنم دے سکتا ہے۔

ٹرمپ کا مداخلہ اور خط

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اسرائیلی صدر کو ایک خط لکھا جس میں نیتن یاہو پر عائد بدعنوانی، رشوت اور فراڈ کے الزامات کو ‘سیاسی اور غیر منصفانہ’ قرار دیا گیا۔ ٹرمپ نے اکتوبر میں اسرائیلی پارلیمنٹ کے دورے کے دوران بھی اس معاملے کو اٹھایا اور معافی کی سفارش کی۔ ان کا موقف تھا کہ یہ مقدمات نیتن یاہو کی قیادت کو کمزور کرنے کی سازش ہیں، جو مشرق وسطیٰ کی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہیں۔ تاہم، یہ امریکی مداخلت اسرائیلی عوام میں متنازع ہو گئی، جہاں بہت سے لوگ اسے داخلی امور میں دخل اندازی سمجھتے ہیں۔

ہرزوگ کا سخت موقف اور قانونی عمل

اسحاق ہرزوگ نے پولیٹیکو نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ وہ ٹرمپ کی دوستی اور رائے کا احترام کرتے ہیں، مگر ‘اسرائیل ایک خودمختار ملک ہے اور اس کے قوانین کی پابندی لازمی ہے’۔ انہوں نے اسے ‘غیر معمولی درخواست’ قرار دیا اور عدالتی مشیروں سے مشاورت کا اعلان کیا۔ نیتن یاہو نے خود بھی صدر سے معافی کی درخواست کی ہے، جو اب وزارۃِ انصاف کے جائزے کے تابع ہے۔ ہرزوگ کا زور تھا کہ عوام کی بھلائی ہی فیصلہ کن ہوگی، جو ممکنہ طور پر مشروط معافی یا مکمل انکار کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

نیتن یاہو کے مقدمات اور عوامی ردعمل

نیتن یاہو پر 2019 سے کیس 1000، 2000 اور 4000 چل رہے ہیں، جن میں ارب پتی کاروباریوں سے تحائف لینے، میڈیا پر اثرورسوخ اور ریگولیٹرز کو فائدہ پہنچانے کے الزامات شامل ہیں۔ حالیہ دنوں میں تل ابیب میں ہزاروں اسرائیلیوں نے احتجاج کیا، معافی کی مخالفت میں نعرے لگائے۔ ایک سروے کے مطابق، 60 فیصد عوام معافی کے خلاف ہیں، جو نیتن یاہو کی حکومت کے لیے بڑا دھچکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فوج مخالف بیانات، پی ٹی آئی رہنما نے پارٹی چھوڑنےکا اعلان کردیا

نتیجہ: اسرائیلی سیاست میں نئی موڑ

یہ انکار نہ صرف نیتن یاہو کی قانونی جدوجہد کو طول دے گا بلکہ امریکہ-اسرائیل تعلقات پر بھی سوالات اٹھائے گا۔ ٹرمپ کی حمایت کے باوجود، ہرزوگ کا فیصلہ قانون کی حکمرانی کو مضبوط کرتا ہے، مگر داخلی تقسیم گہری ہو سکتی ہے۔ پاکستانی قارئین کے لیے یہ یاد دلاتا ہے کہ عالمی سیاست میں دوست ممالک بھی داخلی امور میں مداخلت سے گریز کریں

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں