ہفتہ, جون 13, 2026
Homeتفریحای چالان کے بھاری جرمانے کیوں؟

ای چالان کے بھاری جرمانے کیوں؟

کراچی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر نافذ ای چالان نظام نے شہریوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے، جہاں جرمانوں کی شرح لاہور کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے، پہلے دن کے ابتدائی چھ گھنٹوں میں 2662 چالان جاری ہوئے جو سوا کروڑ روپے سے زائد کے تھے، عوام کا کہنا ہے کہ شہر کا انفراسٹرکچر خراب ہونے کے باوجود مہنگے جرمانے ظلم کے مترادف ہیں، سندھ ہائی کورٹ نے اس معاملے پر نوٹس جاری کرتے ہوئے 25 نومبر تک جواب طلب کر لیا ہے، جبکہ بس اونرز ایسوسی ایشن اور دیگر نے غیر منصفانہ جرمانوں کے خلاف پٹیشن دائر کی ہیں۔

جرمانوں کا تقابلی جائزہ

کراچی اور لاہور میں ٹریفک جرمانوں میں واضح فرق ہے جو عوامی غم و غصے کی وجہ بنا ہوا ہے۔ مثال کے طور پر، ڈرائیونگ لائسنس نہ رکھنے پر کراچی میں 20 ہزار روپے جرمانہ ہے جبکہ لاہور میں صرف 200 روپے، ہیلمٹ نہ پہننے پر کراچی میں 5 ہزار اور لاہور میں 2 ہزار روپے، سگنل توڑنے پر کراچی میں 5 ہزار جبکہ لاہور میں 300 روپے، اور ون وے کی خلاف ورزی پر کراچی میں 25 ہزار روپے کے مقابلے لاہور میں 2 ہزار روپے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ غیر مساوی اطلاق قوانین کی روح کے خلاف ہے اور شہریوں پر اضافی بوجھ ڈال رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مری گلاس ٹرین منصوبہ: اسلام آباد ایئرپورٹ سے تیز رفتار رابطے کا نیا دور

عوامی ردعمل اور حکومتی اقدامات

شہریوں کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے فرسٹ ورلڈ کا جدید نظام تو نافذ کر دیا مگر سڑکوں کی حالت کچے علاقوں جیسی ہے، ٹریفک حادثات میں رواں سال 700 افراد جاں بحق اور 10 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں، بھاری گاڑیاں موت کا سبب بن رہی ہیں۔ ایکسائز محکمہ پانچ ماہ سے نمبر پلیٹیں جاری نہیں کر رہا، جبکہ ٹریفک برانچوں میں بدسلوکی عام ہے۔ امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ یہ عوام کو لوٹنے کا طریقہ ہے۔ بس اونرز کا کہنا ہے کہ ایک لاکھ روپے کا چالان ٹرانسپورٹ سسٹم کو متاثر کرے گا۔

نتیجہ

سندھ حکومت کو چاہیے کہ جرمانوں کو منصفانہ بنائے اور پورے صوبے میں یکساں نافذ کرے، کم تنخواہ والے شہریوں پر بوجھ کم کرنے کے لیے شعور بیداری مہم چلائی جائے۔ عدالت کا نوٹس امید کی کرن ہے، مگر اصل حل انفراسٹرکچر کی بہتری اور قوانین کی مساوی تطبیق میں ہے۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں