ہفتہ, جون 13, 2026
Homeعالمیمسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی مکروہ عمل ہے، اس کا مقابلہ کرنا...

مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی مکروہ عمل ہے، اس کا مقابلہ کرنا ہوگا , برطانوی وزیراعظم

لندن (نیوز ڈیسک) – برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے مسلمانوں کے خلاف بڑھتی نفرت انگیزی اور اسلاموفوبیا کو “مکروہ اقدام” قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس کی برطانوی معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں۔ ہاؤس آف Commons میں اپنے تازہ بیان میں انہوں نے زور دیا کہ اینٹی مسلم ہیٹ مکروہ ہے، اس سے سختی سے نمٹا جائے گا اور حکومت مساجد سمیت مسلم کمیونٹی کی مکمل حفاظت یقینی بنائے گی۔

پارلیمنٹ میں سخت اور واضح موقف

وزیراعظم نے کہا کہ مسلم کمیونٹی کے خلاف نفرت انگیز رویہ نہ صرف مکروہ ہے بلکہ یہ ہمارے مشترکہ معاشرتی اقدار کے بھی خلاف ہے۔ “ہم اسے برداشت نہیں کریں گے، اس سے سختی سے نمٹا جائے گا اور متاثرین کو مکمل تحفظ دیا جائے گا۔” انہوں نے تسلیم کیا کہ حالیہ مہینوں میں اسلاموفوبیا اور نسل پرستانہ واقعات میں خطرناک اضافہ ہوا ہے، مگر حکومت اسے روکنے کے لیے پوری طرح متحرک ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی کانگریس کی رپورٹ نے 4 روزہ جنگ میں پاکستان کی فتح کی تصدیق کر دی

حفاظتی اقدامات اور فنڈنگ میں اضافہ

حکومت نے مساجد، مسلم faith centres اور کمیونٹی اداروں کی سکیورٹی کے لیے فوری طور پر 10 ملین پاؤنڈ کی اضافی فنڈنگ کا اعلان کیا ہے۔ اس رقم سے نئی سکیورٹی کیمرے، الارم سسٹم، سیکیورٹی گارڈز اور ایمرجنسی رسپانس کو مضبوط کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ نفرت انگیز واقعات کی فوری مانیٹرنگ کی جائے گی اور متاثرین کو قانونی، نفسیاتی اور مالی مدد فوراً فراہم کی جائے گی۔

مسلم کمیونٹی کے لیے مثبت پیغام

برطانیہ میں تقریباً 40 لاکھ مسلمانوں نے اس بیان کو انتہائی مثبت قرار دیا ہے۔ مسلم کونسل آف برطین سمیت متعدد تنظیموں نے وزیراعظم کے موقف کی حمایت کی اور کہا کہ یہ اقدامات دیرینہ مطالبہ پورا کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی اسلاموفوبیا کے خلاف ٹھوس لائحہ عمل شروع کیا ہے جو پچھلی حکومتوں سے مختلف اور موثر ہے۔

یہ بیان اور فنڈنگ کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب برطانیہ میں نفرت انگیز جرائم کی شرح میں تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ وزیراعظم کا واضح ہیں کہ برطانیہ کثیر الثقافتی معاشرہ ہے اور ہر شہری کو امن و امان کے ساتھ جینے کا حق ہے۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں