اسلام آباد (نوا ٹائمز اردو) — پاکستان میں نومبر 2025 کی مجموعی مہنگائی کی شرح معمولی کمی کے بعد 6.1 فیصد پر آ گئی جبکہ بنیادی افراطِ زر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ادارۂ شماریات کے مطابق یہ شرح اکتوبر کے 6.2 فیصد سے کم اور گزشتہ سال نومبر کے 4.9 فیصد سے اب بھی زیادہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بنیادی افراطِ زر میں یہ گراوٹ شرحِ سود میں کٹوتی کی نئی امیدیں جگا رہی ہے۔
مالی سال 26 کی اوسط مہنگائی میں واضح کمی
رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ (جولائی تا نومبر) میں اوسط مہنگائی کی شرح 5.01 فیصد رہی جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 7.88 فیصد سے کافی کم ہے۔ ماہرینِ معیشت اسے حکومتی پالیسیوں اور عالمی اجناس کی قیمتوں میں استحکام کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد اسکیم میں تبدیلیوں پر سنجیدہ غور
شرحِ سود میں کٹوتی کی امیدیں مضبوط
بنیادی افراطِ زر کی شرح میں مسلسل کمی کے بعد کاروباری حلقوں اور تجزیہ کاروں نے اسٹیٹ بینک سے شرحِ سود میں ایک بار پھر کٹوتی کی توقع ظاہر کی ہے۔ گزشتہ چند ماہ میں متعدد بار شرحِ سود کم کی جا چکی ہے اور تازہ اعداد و شمار اس عمل کو مزید آگے بڑھانے کا جواز فراہم کر رہے ہیں۔
نتیجہ
اگرچہ مہنگائی اب بھی گزشتہ سال سے بلند ہے مگر مسلسل کمی کا رجحان عام آدمی کے لیے کچھ راحت کی نوید ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ آئندہ چند ماہ میں اگر یہی رجحان برقرار رہا تو نہ صرف شرحِ سود مزید کم ہو سکتی ہے بلکہ معاشی سرگرمیوں میں بھی تیزی آ سکتی ہے۔
