ہفتہ, جون 13, 2026
Homeپاکستاناپوزیشن نے 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف بھرپور احتجاج کا اعلان کردیا

اپوزیشن نے 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف بھرپور احتجاج کا اعلان کردیا

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سمیت اپوزیشن اتحاد نے 27ویں آئینی ترمیم کی شدید مخالفت کا اعلان کر دیا ہے۔ سینیٹر علی ظفر نے سینیٹ اجلاس میں اسے 1973 کے آئین اور 18ویں ترمیم کو تباہ کرنے والی سازش قرار دیا، جبکہ سابق اسپیکر اسد قیصر نے اسے جمہوریت دفن کرنے کی کوشش اور نیا پنڈورا باکس کھولنے کا حربہ کہا۔ اپوزیشن نے پارلیمنٹ میں بھرپور احتجاج اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر مزاحمت کا عزم ظاہر کیا ہے۔

علی ظفر کا سینیٹ میں طنزآمیز خطاب

سینیٹ کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے ترمیم کی تفصیلات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ سپریم کورٹ کی طاقت کو کمزور کر کے آئینی عدالت قائم کرنے، صوبائی خودمختاری ختم کرنے، این ایف سی میں صوبوں کے حقوق چھیننے اور آرٹیکل 243 میں صدر کے اختیارات تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ یہ ترمیم کہاں سے آ رہی ہے اور کون اسے تیار کر رہا ہے؟ علی ظفر نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی اس کی مخالفت کرنے والوں کے شانہ بشان کھڑی ہو گی، جو پاکستان کی آئینی بنیادوں کو مضبوط بنانے کی جنگ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیویارک میں تاریخ ساز الیکشن، مسلم امیدوار ظہران ممدانی نیویارک سٹی کے پہلے مسلم میئر منتخب

اسد قیصر کا اپوزیشن اتحاد کی بیٹھک کے بعد بیان

اپوزیشن اتحاد کی اہم بیٹھک کے بعد سابق اسپیکر اسد قیصر نے پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ ترمیم جمہوریت کو دفن کرنے کا نیا ڈرامہ ہے اور نواز شریف کا ‘ووٹ کو عزت دو’ کا نعرہ اب کہاں ہے؟ انہوں نے پی پی پی کو اس ‘ٹوپی ڈرامے’ میں شریک قرار دیا اور پارلیمنٹ میں احتجاج کی حکمت عملی کا اعلان کیا۔ یہ بیان اپوزیشن کی یکجہتی کو اجاگر کرتا ہے، جو صوبائی حقوق اور عدالتی آزادی کی حفاظت کا دعویٰ کر رہا ہے۔

ممکنہ سیاسی اثرات اور آگے کا منظرنامہ

یہ ترمیم آئینی ڈھانچے میں گہرے تبدیلیاں لانے کی کوشش ہے، جو صوبائی خودمختاری اور عدلیہ کی آزادی کو چیلنج کر سکتی ہے۔ اپوزیشن کی متحدہ مخالفت سے حکومت کو پارلیمانی منظوری میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ عوامی سطح پر حقوق کی تحریک کو تقویت مل سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کشمکش پاکستان کی سیاسی استحکام پر اثرات مرتب کرے گی۔

نتیجہ: اپوزیشن کا یہ عزم آئینی اقدار کی حفاظت کی علامت ہے، مگر حکومت کیسے ردعمل دے گی، یہ آنے والے دنوں میں واضح ہو گا۔ پاکستان کی جمہوریت اس امتحان سے گزر رہی ہے، جہاں ہر شہری کا کردار اہم ہے۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں