حنیف گوہر، ایئر کراچی کے چیئرمین اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق سینئر نائب صدر نے کراچی پریس کلب میں صحافیوں کو بتایا کہ تربیلا ڈیم کی مٹی میں 636 ارب ڈالر مالیت کے سونے کے بڑے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ یہ دریافت آرمی چیف آف اسٹاف کو پیش کی گئی، جن کا ردعمل مثبت رہا۔ مٹی کے نمونوں کی لیبارٹری تجزیہ سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ سونہ پاکستان کے قومی قرضے کی ادائیگی کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔ گوہر نے واہنڈا کو منصوبہ پیش کیا ہے، ورنہ ان کی کمپنی سرمایہ کاری کرکے سونہ نکالے گی اور ملک کو سونپ دے گی۔
دریافت کی تفصیلات
تربیلا ڈیم، جو پاکستان کا سب سے بڑا پن بجلی کا منصوبہ ہے، اب معاشی انقلاب کا مرکز بننے والا ہے۔ حنیف گوہر کے مطابق، ڈیم کے اندر سے اکٹھی کی گئی مٹی کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا، جس سے پتہ چلا کہ مٹی میں سونے کی مقدار اتنی ہے کہ اس کی مالیت 636 ارب ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ خبر نومبر 2025 میں سامنے آئی، جب پاکستان کی معیشت کو نئی امید کی کرن مل گئی۔ گوہر نے بتایا کہ ہالینڈ کے ڈریجنگ ماہرین اور ایمسٹرڈیم و کینیڈا کے شراکت داروں سے مشاورت کی جا چکی ہے۔
منصوبے کی پیشکش اور شراکت داریاں
گوہر نے واہنڈا کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ اس منصوبے کو سنبھالے، لیکن اگر انکار کیا تو ایئر کراچی مکمل سرمایہ کاری کرے گی۔ سونہ نکالنے کے بعد یہ ملک کی ملکیت ہو جائے گا، جو قومی خزانے کو مضبوط بنائے گا۔ ہالینڈ سے ڈریجنگ ٹیکنالوجی اور کینیڈا سے شراکت کی بات چیت مثبت ہے، جو جدید طریقوں سے نکالنے میں مدد دے گی۔ یہ اقدام پاکستان کی معدنی دولت کو اجاگر کرے گا، جہاں تربیلا جیسے ڈیمز اب صرف بجلی نہیں بلکہ معاشی خزانے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہمت کارڈ فیز-III کل لانچ ہوگا، خصوصی افراد کے لیے آلات کی تقسیم کے ساتھ
معاشی اثرات اور کراچی کی کاروباری دنیا
یہ دریافت پاکستان کی معیشت کو بہت بڑا جھٹکا دے سکتی ہے، خاص طور پر کراچی جہاں کاروبار پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے۔ گوہر کا کہنا ہے کہ سونے کی مالیت قومی قرضے کی ادائیگی اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے استعمال ہو سکتی ہے، جو بیرونی امداد پر انحصار کم کرے گی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ خبر سرمایہ کاروں کو متوجہ کرے گی اور پاکستانی روپے کی قدر بڑھا سکتی ہے۔
نتیجہ
تربیلا ڈیم میں سونے کی یہ دریافت پاکستان کے لیے ایک سنہری موقع ہے، جو معاشی استحکام کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوا تو ملک کی معدنیات کی صنعت کو نئی بلندیوں پر لے جائے گا۔ حکومت اور نجی شعبے کی مل جل کر کوششوں سے یہ خواب حقیقت بن سکتا ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
