اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کو واضح الفاظ میں خبردار کر دیا گیا ہے کہ عمران خان یا پارٹی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے پاک فوج اور اس کی اعلیٰ قیادت کے خلاف توہین آمیز مہم یا تنقید کی کوئی گنجائش نہیں۔ ذرائع کے مطابق، یہ پیغام ‘بس بہت ہو چکا’ کے لہجے میں دیا گیا، جبکہ عظمیٰ خانم کی حالیہ جیل ملاقات اور اس کے بعد کے بیانات نے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا۔ پارٹی رہنما تسلیم کر رہے ہیں کہ بات چیت ہی واحد حل ہے، مگر سخت بیانیہ راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
سخت لہجے میں پیغام کی سنگینی
پی ٹی آئی کے اندرونی حلقوں میں یہ بات زیر بحث ہے کہ فوج پر تنقید کا سلسلہ گزشتہ تین سال سے جاری ہے، لیکن اب ادارے کی توہین بالکل برداشت نہ کی جائے گی۔ ایک پارٹی ذریعے نے بتایا کہ سینئر رہنماؤں کو دوٹوک الفاظ میں سوشل میڈیا کی نگرانی اور مواد کی تیاری پر سوال اٹھائے گئے۔ عظمیٰ خانم کی عمران خان سے ملاقات، جس میں وفاقی وزراء اور پارلیمانی شخصیات شامل تھیں، کے بعد دیے گئے بیانات نے صورتحال کو پیچیدہ کر دیا۔ کئی ارکان پارلیمنٹ نے نجی گفتگو میں مایوسی کا اظہار کیا اور اہل خانہ سے احتیاط کی تلقین کی، کیونکہ پارٹی کو سیاسی جگہ اور مکالمے کی ضرورت ہے۔
سوشل میڈیا اور بیان بازی کی رکاوٹیں
ذرائع کا کہنا ہے کہ 9 مئی کے واقعات کے بعد فوج مخالف بیان بازی پر نرمی کی کوئی گنجائش نہیں۔ ایک قومی اسمبلی رکن نے کہا کہ عمران خان کے جذبات پر مبنی بیانات کو اہل خانہ عوام تک نہ پہنچائے، ورنہ پارٹی کی ریلیف کوششیں کمزور ہوں گی۔ پارٹی کے پارلیمانی ونگ میں غالب رائے یہ ہے کہ مستقبل کے لیے روابط ضروری ہیں، مگر سوشل میڈیا کا بیانیہ پیش رفت روک رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اڈیالہ کے باہر مستقل احتجاج پر عمران خان کی جیل منتقلی پر غور کیا جا سکتا ہے، رانا ثنااللہ
نتیجہ: بات چیت کی راہ تلاش
پی ٹی آئی کو اب احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ سیاسی بحران حل ہو سکے۔ فوج کی طرف سے سخت موقف نے پارٹی کے اندر خود احتسابی کو جنم دیا ہے، اور ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کشیدگی قومی مفاد میں کم ہو سکتی ہے اگر دونوں اطراف سے نرمی برتی جائے۔
