منگل, مارچ 3, 2026
Homeپاکستاناسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کشیدگی میں کمی کی کوششیں، عمران خان خود رکاوٹ...

اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کشیدگی میں کمی کی کوششیں، عمران خان خود رکاوٹ بن گئے

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بعض سینئر رہنماؤں اور سابق اراکین کی جانب سے حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات شروع کرنے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان کے سخت موقف کی وجہ سے یہ کاوشیں ناکام ہو رہی ہیں۔ عمران خان نے مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے تصادم کی پالیسی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، جس سے پارٹی کی سیاسی تنہائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

پی ٹی آئی میں اندرونی کوششیں اور رکاوٹیں

پی ٹی آئی کے جیل میں قید اور باہر موجود رہنماؤں نے خاموشی سے سیاسی مصالحت کی کوششیں شروع کی ہیں۔ وہ دلیل دے رہے ہیں کہ تصادم کی حکمت عملی نے پارٹی کو الگ تھلگ کر دیا ہے اور مستقبل کے امکانات ختم کر دیے ہیں۔ تاہم، عمران خان کے دوٹوک انکار کی وجہ سے یہ کوششیں بارآور ثابت نہیں ہو رہیں۔ کوٹ لکھپت جیل کے قیدی رہنماؤں کی مذاکرات کی حمایت کے چند دن بعد ہی عمران خان نے اڈیالہ جیل سے سخت بیان جاری کر کے اسے رد کر دیا۔

عمران خان کا موقف اور اس کے اثرات

عمران خان نے جولائی میں واضح طور پر کہا کہ "مذاکرات کا وقت ختم ہو چکا ہے” اور اگست میں ملک بھر میں احتجاجی مہم کا اعلان کیا۔ اس بیان نے پارٹی کے اندر مصالحتی سوچ رکھنے والے رہنماؤں جیسے شاہ محمود قریشی کو مایوس کیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ عمران خان کا فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سخت لہجہ پارٹی کی واپسی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ پارٹی اراکین نجی محفلوں میں تسلیم کرتے ہیں کہ جب تک سوشل میڈیا پر فوج کو نشانہ بنانا بند نہ ہو، بامعنی بات چیت ممکن نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں تحریکِ عدم اعتماد کا طریقہ کار طے پا گیا، وزیرِ قانون

اختتامیہ

اگرچہ پی ٹی آئی کے کچھ رہنما جیسے فواد چوہدری اور عمران اسماعیل مصالحت کی کوششیں کر رہے ہیں، لیکن عمران خان کی ضد کی وجہ سے پارٹی کی سیاسی بحالی مشکل نظر آتی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ متبادل قیادت جیسے شاہ محمود قریشی یا پرویز الٰہی اسٹیبلشمنٹ کے لیے قابل قبول ہو سکتی ہے، مگر فی الحال پارٹی عمران خان کی گرفت میں ہے۔ پاکستان کی سیاست میں استحکام کے لیے مصالحت ضروری ہے، ورنہ تنازعات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں