امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو یوکرین جنگ ختم کرنے کیلئے انتہائی سنجیدہ قرار دیا ہے۔ فلوریڈا میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات سے قبل ٹرمپ نے پیوٹن سے 75 منٹ کی طویل ٹیلی فون گفتگو کی، جس کے بعد انہیں یقین ہوا کہ روس امن کیلئے تیار ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امن مذاکرات آخری مراحل میں ہیں اور دونوں فریق جنگ کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔ زیلنسکی سے بات چیت کے بعد ٹرمپ دوبارہ پیوٹن سے رابطہ کریں گے۔
ملاقات کی تفصیلات امریکی صدر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پیوٹن کے ساتھ بات چیت انتہائی مثبت رہی۔ یہ ملاقات مارا لاگو میں ہوئی جہاں زیلنسکی نے 20 نکاتی امن منصوبے پر تبادلہ خیال کیا، جو 90 فیصد تک تیار ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین کو معاشی فوائد ملیں گے اور علاقائی تنازعات پر بات ہو رہی ہے۔ اکتوبر میں بھی دونوں رہنماؤں کی ملاقات ہوئی تھی جہاں امن کی راہ ہموار کرنے پر زور دیا گیا تھا۔
امن کی راہ میں رکاوٹیں جنگ کے خاتمے کیلئے علاقائی مسائل جیسے ڈونباس اور زاپوریژیا جوہری پلانٹ اب بھی اہم رکاوٹیں ہیں۔ روس اپنے قبضے والے علاقوں پر مطالبات کر رہا ہے جبکہ یوکرین معاشی زون اور سلامتی کی ضمانتوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ پیوٹن امن چاہتے ہیں مگر حتمی معاہدہ ابھی دور ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یکم جنوری سے اسلام آباد میں بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کا داخلہ روکنے کا فیصلہ
نتیجہ یہ پیش رفت عالمی امن کیلئے اہم ہے مگر حتمی کامیابی کیلئے مزید کوششیں درکار ہیں۔ ٹرمپ کی کاوشیں پاکستان سمیت مسلم دنیا کیلئے استحکام کی نوید ہیں جہاں جنگوں کے اثرات محسوس کیے جاتے ہیں۔
