ہفتہ, مئی 30, 2026
Homeعالمیروس میں ایک اور آرمی جنرل مارا گیا۔

روس میں ایک اور آرمی جنرل مارا گیا۔

ماسکو: روسی فوج کے سینئر افسر لیفٹیننٹ جنرل فانل سارواروف پیر کی صبح ماسکو کے جنوبی علاقے میں اپنی گاڑی کے نیچے نصب بم کے پھٹنے سے ہلاک ہو گئے۔ یہ واقعہ روسی دارالحکومت میں فوجی عہدیداروں پر حملوں کی بڑھتی ہوئی فہرست میں اضافہ کرتا ہے، جبکہ روسی حکام یوکرینی خفیہ ایجنسیوں پر الزام عائد کر رہے ہیں۔

واقعے کی تفصیلات

روسی تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق، دھماکہ صبح سویرے یاسینیوایا سٹریٹ پر ہوا جب جنرل سارواروف اپنی کیا سورینٹو گاڑی پارکنگ سے نکال رہے تھے۔ دھماکہ خیز آلہ گاڑی کے نیچے نصب تھا، جس سے گاڑی شدید متاثر ہوئی اور جنرل شدید زخمی ہو کر ہسپتال میں دم توڑ گئے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بتایا کہ صدر ولادیمیر پوٹن کو فوری طور پر اس واقعے کی اطلاع دی گئی۔ تحقیقاتی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور قتل اور غیر قانونی دھماکہ خیز مواد کی اسمگلنگ کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔

    روسی الزامات اور پس منظر

    جنرل سارواروف روسی مسلح افواج کے آپریشنل ٹریننگ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ تھے، جو فوجی تیاریوں اور مشقوں کے لیے اہم ذمہ داریاں نبھاتے تھے۔ روسی میڈیا کے مطابق، وہ چیچنیا، شام اور یوکرین تنازع میں بھی خدمات انجام دے چکے تھے۔ تحقیقاتی کمیٹی نے یوکرینی خفیہ خدمات کو ممکنہ طور پر ملوث قرار دیا ہے، تاہم یوکرین کی طرف سے اب تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ یہ حملہ یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے ماسکو میں فوجی عہدیداروں پر ہونے والے متعدد حملوں کا حصہ ہے۔

    یہ بھی پڑھیں: ایران نے اسرائیل کی جانب سے دوبارہ حملےکا خدشہ ظاہر کردیا

    بڑھتے ہوئے حملوں کا سلسلہ

    گزشتہ سال دسمبر میں لیفٹیننٹ جنرل ایگور کریلوف اور اپریل میں ایک اور سینئر افسر کار بم دھماکوں میں ہلاک ہوئے تھے۔ یہ سلسلہ روسی فوج کے اعلیٰ عہدیداروں کی سیکیورٹی پر سوالات اٹھا رہا ہے، جبکہ تنازع جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق، ایسے حملے جنگ کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

    متعلقہ پوسٹس

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    یہ بھی پڑھیں