منگل, مارچ 3, 2026
Homeعالمیامریکا نے افغان پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزے معطل کر دیے، پناہ...

امریکا نے افغان پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزے معطل کر دیے، پناہ کی درخواستوں پر بھی کام روک دیا

واشنگٹن: امریکا نے قومی سلامتی کے خدشات کے تحت افغان پاسپورٹ رکھنے والوں کو ویزے جاری کرنے کا عمل فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ اور امیگریشن سروسز نے پناہ گزینوں کی تمام درخواستوں پر بھی فیصلہ سازی روک دی ہے۔ یہ سخت اقدامات ایک افغان شہری کی مبینہ فائرنگ کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں نیشنل گارڈ کا ایک فوجی ہلاک اور دوسرا زخمی ہوا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے تیسری دنیا کے ممالک سے ہجرت پر مستقل پابندی کا اعلان کیا ہے، جو افغان برادریوں کے لیے بھاری دھچکا ہے۔

واقعہ کی تفصیلات بدھ کو وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈ کے دو ارکان پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس کا ملزم 29 سالہ افغان شہری رحمان اللہ لکنوال قرار دیا گیا ہے۔ وہ 2021 میں آپریشن الیز ویل کام کے تحت امریکا داخل ہوا تھا اور اس سال پناہ کی درخواست منظور ہوئی تھی۔ حکام کے مطابق، لکنوال نے افغان فوج میں خدمات سرانجام دی تھیں اور اس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ملا تھا، مگر اس حملے نے امریکی حکومتی اداروں کو جھنجھوڑ دیا۔ نیشنل گارڈ کی خصوصی کارروائی میں ایک فوجی شہید جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوا۔ صدر ٹرمپ نے اسے "دہشت گردانہ کارروائی” قرار دیا اور فوری طور پر امیگریشن پالیسیوں کا جائزہ لینے کا حکم دیا۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے ملاقات کیلئے سوشل میڈیا پر ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں: عطا تارڑ

حکومتی اقدامات اور پس منظر امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا کہ افغان پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے تمام ویزے معطل ہیں جب تک کہ جانچ پڑتال کے نئے پروٹوکول نافذ نہ ہو جائیں۔ یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز (یو ایس سی آئی ایس) کے ڈائریکٹر جوزف ایلڈو نے کہا کہ "ہر غیر ملکی کی مکمل اسکریننگ کو یقینی بنانے تک تمام پناہ کے فیصلے روک دیے گئے ہیں، امریکی عوام کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔” یہ فیصلہ 2021 کے بعد امریکا آنے والے لاکھوں افغانوں کی درخواستوں کو متاثر کرے گا، جن میں سے بہت سے پاکستان، قطر اور شمالی مقدونیہ میں انتظار کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ بائیڈن دور میں داخل ہونے والے افغانوں کی دوبارہ جانچ ہوگی اور تیسری دنیا سے ہجرت کو مستقل روکا جائے گا۔

افغان برادریوں پر اثرات یہ پابندیاں افغانوں کے لیے آخری امیدیں چکناچور کر رہی ہیں جو طالبان کے قبضے کے بعد امریکا جانا چاہتے تھے۔ پاکستان میں رہنے والے ہزاروں افغان بے گھر ہونے کے خطرے میں ہیں، جہاں حکومتی کریک ڈاؤن نے ان کی زندگی مزید مشکل بنا دی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات غیر متناسب ہیں اور محفوظ ملکوں کی تعریف کو تبدیل کر دیں گے۔ تاہم، امریکی حکام کا اصرار ہے کہ یہ قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہیں۔

نتیجہ یہ واقعہ امریکا کی امیگریشن پالیسیوں میں نئی سختی کی علامت ہے، جو نہ صرف افغانوں بلکہ دیگر ترقی پذیر ممالک کے شہریوں کو متاثر کرے گی۔ مستقبل میں سفارتی مذاکرات سے معاملہ حل ہو سکتا ہے، مگر فی الحال ہزاروں خاندانوں کی امیدیں داؤ پر لگ گئی ہیں۔ پاکستان جیسے ملحق ممالک کو بھی اس کے اثرات کا سامنا کرنا پڑے گا، جہاں افغان مہاجرین کی تعداد لاکھوں میں ہے۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں