واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے سفری پابندیوں کی فہرست کو موجودہ 19 ممالک سے بڑھا کر 30 سے زائد تک وسعت دینے کی تیاری شروع کر دی ہے، جو حالیہ قومی سلامتی کے واقعات کے تناظر میں امیگریشن پالیسیوں میں مزید سختی کا اشارہ دیتی ہے۔ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوئم نے صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد اعلان کیا کہ وہ "ہر ایسے ملک پر مکمل سفری پابندی” کی سفارش کر رہی ہیں جو "قتل عام کرنے والوں، فائدہ اٹھانے والوں اور امریکی فوائد چوروں” سے بھرپور ہو۔ اس کے علاوہ، ایچ ون بی ویزہ درخواست گزاروں اور ان کے خاندانوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی پرائیویسی عوامی کرنے کی نئی ہدایت 15 دسمبر سے نافذ ہوگی، جس سے آن لائن پروفائلز کا جائزہ لینا لازمی ہو جائے گا۔ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ویزہ دینا "قومی سلامتی کی بنیاد پر سہولت” ہے، نہ کہ حق، اور ہر درخواست کا فیصلہ اسی تناظر میں کیا جائے گا۔
سفری پابندیوں کی توسیع کا پس منظر
حالیہ واقعات نے امریکی امیگریشن پالیسیوں کو مزید سخت بنا دیا ہے۔ پچھلے ہفتے واشنگٹن ڈی سی میں قومی گارڈ کے دو ارکان پر افغان شہری کی فائرنگ سے ایک ہلاک اور دوسرا زخمی ہوا، جس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے افغان شہریوں کے تمام ویزہ اور پناہ کی درخواستوں پر روک لگا دی۔ جون 2025 میں جاری 19 ممالک کی فہرست میں افغانستان، ایران، ہائیتی، وینزویلا سمیت افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے کئی ملک شامل ہیں، جہاں مکمل یا جزوی پابندیاں عائد ہیں۔ اب نوئم کی سفارشات کے مطابق، سب صحارہ افریقہ سمیت 36 اضافی ممالک پر غور کیا جا رہا ہے، جو "تیسرے دنیا کے ناکام ریاستوں” کو نشانہ بنائے گی۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان کارولین لیویٹ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ یہ توسیع "عالمی سطح پر مزید ممالک کو شامل” کرے گی، جبکہ یو ایس سی آئی ایس نے افغان گرین کارڈز کی دوبارہ جانچ کا حکم دیا ہے۔
ایچ ون بی ویزہ پر نئی سختیاں اور اثرات
ایچ ون بی ویزہ، جو ہائی ٹیک اور پروفیشنلز کے لیے اہم ہے، اب مزید امتحان سے گزرے گا۔ محکمہ خارجہ کی نئی ہدایات کے تحت، تمام درخواست گزاروں کو سوشل میڈیا پروفائلز پبلک رکھنے ہوں گے تاکہ ویزہ انٹرویو سے پہلے ان کی آن لائن سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے۔ یہ پالیسی نہ صرف ایچ ون بی بلکہ ایچ فور انحصار کرنے والوں پر بھی लागو ہوگی، اور اسے "قومی سلامتی کی حفاظت” قرار دیا گیا ہے۔ پاکستانی آئی ٹی پروفیشنلز اور طلبہ، جو ہر سال ہزاروں ایچ ون بی ویزوں پر امریکہ جاتے ہیں، اس سے براہ راست متاثر ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں امریکی معیشت کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہیں، کیونکہ ہائی سکلڈ ورکرز کی کمی ٹیک سیکٹر کو متاثر کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: بہار میں شادی کی تقریب رسگلے ختم ہونے پر ہنگامہ خیز میدان بن گئی، مہمانوں میں گھونسوں اور کرسیوں کی بارش
پاکستانیوں پر ممکنہ اثرات
پاکستان ابھی فہرست میں شامل نہیں، مگر توسیع سے خطے کے دیگر ممالک کی طرح یہاں بھی ویزہ عملے میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ ہر سال ہزاروں پاکستانی طلبہ اور پروفیشنلز امریکی یونیورسٹیوں اور کمپنیوں میں جاتے ہیں، جہاں ایچ ون بی ویزہ کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ سوشل میڈیا چیک سے پرائیویسی مسائل اٹھ سکتے ہیں، اور ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ پابندیاں پاک-امریکی تعلقات کو متاثر کریں گی۔
نتیجہ: امریکی انتظامیہ کی یہ نئی پالیسیاں قومی سلامتی کے نام پر امیگریشن کو مزید محدود کر رہی ہیں، جو عالمی سطح پر تنازعات کو جنم دے سکتی ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ سفارتی سطح پر اس کا مقابلہ کرے تاکہ اپنے شہریوں کے مفادات محفوظ رہیں۔ جیسے جیسے فہرست کا اعلان قریب آتا ہے، پاکستانی کمیونٹی کی تشویش بڑھ رہی ہے—کیا یہ پابندیاں صرف سلامتی ہیں یا وسیع تر سیاسی ایجنڈا؟
