ہفتہ, مئی 30, 2026
Homeعالمیروس یوکرین جنگ بندی: ٹرمپ اور زیلنسکی کی 2 گھنٹے طویل ملاقات...

روس یوکرین جنگ بندی: ٹرمپ اور زیلنسکی کی 2 گھنٹے طویل ملاقات بغیر کسی بریک تھرو کے ختم

فلوریڈا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی دو گھنٹے طویل ملاقات بغیر کسی بڑے بریک تھرو کے ختم ہوگئی۔ دونوں رہنماؤں نے روس-یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے امن منصوبے پر تبادلہ خیال کیا، جہاں 90 فیصد نکات پر اتفاق ہوچکا ہے، لیکن مشرقی علاقے ڈونباس کے مستقبل پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ معاہدہ قریب ہے مگر کچھ مسائل حل طلب ہیں، جبکہ زیلنسکی نے ڈونباس کو یوکرینی عوام کے فیصلے پر چھوڑنے کا عندیہ دیا۔

یہ بھی پڑھیں: پیوٹن یوکرین سےجنگ کے خاتمے کیلئے انتہائی سنجیدہ ہیں: ٹرمپ

ملاقات کی تفصیلات

ملاقات کے دوران دونوں صدور نے روس-یوکرین تنازع کے حل کے لیے 20 نکاتی امن پلان پر غور کیا۔ ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ مذاکرات پیچیدہ ہیں اور غیر متوقع رکاوٹیں عمل کو متاثر کرسکتی ہیں۔ انہوں نے یوکرین کو خبردار کیا کہ جلد معاہدہ نہ کرنے کی صورت میں روس مزید علاقوں پر قبضہ کرسکتا ہے۔ زیلنسکی نے بتایا کہ گزشتہ ہفتوں میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور مسودے کے بیشتر حصوں پر اتفاق رائے قائم ہوچکا ہے۔

ڈونباس کا مسئلہ

ڈونباس علاقہ امن معاہدے کی سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ روس پورے علاقے پر قبضے کا مطالبہ کررہا ہے، جبکہ پیوٹن نے یوکرین کو دستبردار ہونے کی وارننگ دی ہے۔ ٹرمپ نے ڈونباس کو آزاد اقتصادی زون بنانے کی تجویز پیش کی، جبکہ زیلنسکی نے کہا کہ روس کی افواج کی واپسی کی صورت میں یوکرین بھی فوجی دستے نکال سکتا ہے اور علاقے کو بین الاقوامی نگرانی میں ڈی ملیٹرائزڈ زون بنایا جاسکتا ہے۔ زیلنسکی کا اصرار ہے کہ ڈونباس کا فیصلہ یوکرینی عوام کریں گے۔

نتیجہ

یہ ملاقات روس-یوکرین جنگ کے خاتمے کی طرف اہم قدم ہے، مگر ڈونباس جیسے مسائل کی وجہ سے حتمی معاہدہ ابھی دور نظر آتا ہے۔ اگر پیش رفت جاری رہی تو جلد امن ممکن ہے، جو عالمی سطح پر پاکستان سمیت تمام ممالک کے لیے مثبت ہوگا۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں